11 جون 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ ایٹمی ترک اسلحہ وہ واحد راستہ ہے جو انسانیت کو ان ہتھیاروں کے جانے انجانے استعمال کے بھیانک نتائج سے بچاسکتا ہے۔

ابنا: علی اکبر صالحی نے آج تہران میں ایٹمی ترک اسلحہ اور عدم پھیلاو کے موضوع پر دوسری عالمی کانفرنس کی افتتاحیہ تقریب میں رہبرانقلاب اسلامی کے اس بیان کی طرف اشارہ کرتےہوۓ کہ ہماری نظر میں ایٹمی اسلحہ کا استعمال حرام ہے اور ہم یہ سمجھتےہیں کہ انسانیت کو اس بڑی مصیبت سے نجات دینا سب کی ذمہ داری ہے ، کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظرمیں پرامن دنیا وجود میں لانے کے لئے ایٹمی ترک اسلحہ ایک فوری ضرورت ہے۔ علی اکبر صالحی نے کہا کہ بڑی ایٹمی طاقتیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو برقراررکھنے کی کوشش کررہی ہیں اور بعض ممالک تو ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے کی ڈاکٹرائن رکھتےہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض ملکوں کی یکطرفہ ایٹمی پالیسیاں این پی ٹی معاہدے کےمنافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک ایٹمی ترک اسلحہ کو ممکن بنانے کےبجائے باہمی معاہدوں کے ذریعے ایٹمی ہتھیاروں کی اسٹرٹیجیک حیثیت کو برقراررکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ این پی ٹی کی سب سے زیادہ مخالفت کرنےوالا ملک ہے جبکہ خود کو ایٹمی عدم پھیلاو کا سب سےبڑا طرفدار قراردیتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا بنیادی ھدف عالمی برادری کے مطالبے کے مطابق صیہونی حکومت کو این پی ٹی پر دستخط کرنے اور آئي اے ای اے کی نگرانی کو قبول کرنے پرمجبورکرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت